السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفعل من فاته الحج باب: جس کا حج فوت ہو جائے وہ کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ⦗٢٨٥⦘ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " ثُمَّ خَرَجْتُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْهُ وَرُوِيَ عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ عَنْهُ، فَقَالَ: وَيُهَرِيقُ دَمًا، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَيَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ وَلَيْسَ عَلَيْهِ هَدْيٌ "، قَالَ: فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ بَعْدَ عِشْرِينَ سَنَةً، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ.(الف) ابراہیم رحمہ اللہ، حضرت اسود رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جس کا حج رہ گیا تھا، وہ فرمانے لگے کہ وہ عمرہ کا تلبیہ کہے اور آئندہ سال اس پر حج ہے۔ پھر آئندہ سال میں نکلا تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ جس شخص کا حج رہ جائے؟ وہ فرمانے لگے کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے اور آئندہ سال حج کرے۔
(ب) اعمش رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ سے حلال ہو گا اور آئندہ سال حج کرے گا، اس پر قربانی نہیں ہے۔
(ج) ادریس اودی رحمہ اللہ ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرے۔