السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفعل من فاته الحج باب: جس کا حج فوت ہو جائے وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9824
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ عُمَرُ: " اجْعَلْهَا عُمْرَةً، وَعَلَيْكَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ "، قَالَ الْأَسْوَدُ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً ثُمَّ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جس کا حج رہ گیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو عمرہ بنا لو اور آئندہ سال آپ کے اوپر حج ہے۔ اسود کہتے ہیں: میں ۲۰ سال تک ٹھہرا رہا، پھر میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔