کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9812
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ "، أَوْ " تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”حج عرفہ کا ہی نام ہے، جس نے وقوفِ عرفہ کو طلوعِ فجر سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا یا اس کا مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرلیتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو مؤخر کر دے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 9813
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَاتٍ فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الْحَجُّ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا فَنَادَى: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ " ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا مِنْ خَلْفِهِ فَنَادَى بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ عرفات میں تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا، انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے آواز دی: ”اے اللہ کے رسول! حج کیسے ہوتا ہے؟“ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے: ”حج عرفہ کا دن ہے۔ جو عرفات میں رات کو صبح کی نماز سے پہلے آ گیا، اس کا حج مکمل ہے۔ منیٰ کے (قیام کے) تین دن ہیں۔ جو دو دن میں جلدی کرے (کنکر مارنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ پھر اس کے بعد ایک آدمی آیا اس نے یہ اعلان کیا۔
حدیث نمبر: 9814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ فَوَاللهِ مَا جِئْتُ حَتَّى ⦗٢٨٣⦘ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي وَمَا تَرَكْتُ مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ شَيْئًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانَ قَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ " قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ زَكَرِيَّا فِيهِ وَكَانَ أَحْفَظَ الثَّلَاثَةِ لِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَيْتُ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ قَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ: " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى يُفِيضَ، وَكَانَ قَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ "، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ میں آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آیا ہوں، قسم بخدا! میں اپنے آپ کو تھکا کر آیا ہوں اور اپنی سواری کو بھی۔ میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر میں نے اس پر ضرور وقوف کیا ہے۔ کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ مزدلفہ میں نماز فجر میں ہمارے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے اور اس نے وقوف عرفہ دن یا رات کے حصہ میں کیا ہوا ہے، اس کا حج مکمل ہو گیا اور میل کچیل ختم ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ زکریا نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، وہ تینوں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت طی کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا اور رات و دن کے حصہ میں عرفہ کے اندر وقوف کیا اس کا حج مکمل ہو گیا، گندگی دور ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ داود بن ابی معشر نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جب فجر طلوع ہوئی۔
حدیث نمبر: 9815
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَوْرَةُ بْنُ الْحَكَمِ صَاحِبُ الرَّأْيِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ قَبْلَ الصُّبْحِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَمَنْ فَاتَهُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عرفات سے صبح سے پہلے واپس پلٹ آیا اور جس کا وقوف عرفہ رہ گیا تو اس کا حج بھی رہ گیا۔“
حدیث نمبر: 9816
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: " لَا يَفُوتُ الْحَجُّ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ "، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَطَاءٌ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حج فوت نہیں ہوتا یعنی نہیں رہ جاتا جب تک کہ مزدلفہ کی رات کے بعد فجر طلوع نہ ہو جائے۔“ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا یہ بات آپ کو نبی ﷺ سے پہنچی ہے؟ فرمانے لگے: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 9817
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9818
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يَقِفْ حَتَّى يُصْبِحَ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے قربانی کی رات طلوع فجر سے پہلے پالی، اس نے حج کو پالیا اور جس نے صبح سے پہلے وقوف نہ کیا اس کا حج رہ گیا، نہ ہو سکا۔“
حدیث نمبر: 9819
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَغَيْرُهُمَا أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔