السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يصيب امرأته بعد التحلل الأول وقبل الثاني باب: اس شخص کا بیان جو تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) کے بعد اور تحللِ ثانی سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لے۔
حدیث نمبر: 9799
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ، قَالَ: " عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ إِنِّي مُوسِرٌ، قَالَ: " فَانْحَرْ نَاقَةً سَمِينَةً فَأَطْعِمْهَا الْمَسَاكِينَ ".حافظ ثناء اللہ
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: جس نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، انہوں نے فرمایا: تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا: میں مالدار ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک موٹی تازی اونٹنی ذبح کر کے مساکین کو کھلا دو۔