السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يصيب امرأته بعد التحلل الأول وقبل الثاني باب: اس شخص کا بیان جو تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) کے بعد اور تحللِ ثانی سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ⦗٢٨٠⦘ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، قَالَ مَالِكٌ: عَلَيْهِ عُمْرَةٌ وَبَدَنَةٌ وَحَجُّهُ تَامٌّ، وَرَوَاهُ عَنْ رَبِيعَةَ فَتَرَكَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَأْيِ رَبِيعَةَ، وَرَوَاهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْقَوْلِ فِي عِكْرِمَةَ لَا يَرَى لِأَحَدٍ أَنْ يَقْبَلَ حَدِيثَهُ، وَهُوَ يَرْوِي بِيَقِينٍ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلَافَهُ، وَعَطَاءٌ ثِقَةٌ عِنْدَهُ وَعِنْدَ النَّاسِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے سوال ہوا کہ محرم آدمی جو منیٰ میں ہے طوافِ افاضہ سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے، انہوں نے حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ قربان کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ: اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ اور اونٹ کی قربانی ہے اور اس کا حج مکمل ہے۔
(ب) ربیعہ رحمہ اللہ سے منقول ہے اور انہوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔
اور امام مالک نے اسے ثور بن زید سے، انہوں نے عکرمہ سے، اس گمان کے ساتھ روایت کیا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے، حالانکہ امام مالک عکرمہ کے بارے میں سخت رائے رکھتے ہیں اور کسی کے لیے اس کی حدیث قبول کرنا درست نہیں سمجھتے، جبکہ وہ یقین کے ساتھ عطاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف روایت کرتے ہیں، اور عطاء ان کے نزدیک بھی اور لوگوں کے نزدیک بھی ثقہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: ہم نے یہ بات اہلِ مدینہ کے فقہاء سے بھی روایت کی ہے۔