حدیث نمبر: 8889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاصِلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ أَبُو كَامِلٍ: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ مُتْعَةِ الْحَاجِّ، فَقَالَ: أَهَلَّ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَهْلَلْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا إِهْلَالَكُمْ بِالْحَجِّ عُمْرَةً إِلَّا مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ " وَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَقَالَ: " مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ " ثُمَّ أَمَرَنَا عَشِيَّةَ التَّرْوِيَةِ أَنْ نُهِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ الْمَنَاسِكِ جِئْنَا فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ تَمَّ حَجُّنَا وَعَلَيْنَا الْهَدْيُ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ} [البقرة: ١٩٦] إِلَى أَمْصَارِكُمْ، وَالشَّاةُ تُجْزِئُ فَجَمَعُوا نُسُكَيْنِ فِي عَامٍ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّ اللهَ أَنْزَلَهُ فِي كِتَابِهِ وَسَنَّهُ نَبِيُّهُ وَأَبَاحَهُ غَيْرُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٩٦] وَأَشْهُرُ الْحَجِّ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ: شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ فمَنْ تَمَتَّعَ فِي هَذِهِ الْأَشْهُرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ أَوْ صَوْمٌ وَالرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَقَدْ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مہاجرین و انصار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے حجۃ الوداع کے موقع پر تلبیہ کہا اور ہم نے بھی کہا، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حج کے تلبیہ کو عمرہ سے بدل دو، سوائے اس شخص کے جو قربانی لے کر آیا ہے۔“ تو ہم نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، عورتوں کے پاس آئے اور کپڑے پہنے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قربانی کو قلادہ ڈالا ہے وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ قربانی اپنے ٹھکانے لگ جائے۔“ پھر ہمیں ترویہ کی رات حکم دیا کہ ہم حج کا تلبیہ کہیں، تو جب ہم مناسک سے فارغ ہوئے تو ہم نے آکر بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور ہمارا حج مکمل ہو گیا اور ہمارے ذمہ قربانی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 196] ”جو قربانی بھی میسر آئے وہ دو اور جو قربانی نہیں پاتا تو وہ تین دن حج میں اور سات گھر جا کر روزہ رکھے“ اپنے شہروں میں، اور بکری بھی کفایت کر جائے گی، تو انہوں نے اس سال دونوں کام کیے، حج بھی اور عمرہ بھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اپنے نبی کی سنت میں بھی اور اہل مکہ کے علاوہ سب نے اس کو حلال جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”یہ اس کے لیے ہے جس کا گھر مسجد حرام کے قریب نہیں“ اور حج کے مہینے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں، جو ان دنوں تمتع کرتا ہے اس پر قربانی یا روزے فرض ہیں اور «الرَّفَثُ» کا معنی ”جماع“ ہے، «الْفُسُوقُ» ”گناہ“، «الْجِدَالُ» ”جھگڑے“ کو کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8889
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1497»