السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: هدي المتمتع بالعمرة إلى الحج وصومه باب: عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے والے کی قربانی اور اس کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ⦗٣٥⦘ وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرِهِ إِيَّاهُمْ بِالْإِحْلَالِ بِالْعُمْرَةِ وَخُطْبَتِهِ وَقَوْلِهِ: " وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَحلَلْتُ كَمَا حَلُّوا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ " قَالَ: فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حج، آپ کے لوگوں کو عمرہ کر کے حلال ہونے کا کہنے اور خطبہ اور آپ کے فرمان: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور لوگوں کی طرح حلال ہو جاتا، تو جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ تین دن حج میں اور سات دن گھر جا کر روزے رکھے اور جس کے پاس قربانی دستیاب ہو وہ نحر کرے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے نحر کرتے تھے اور ساری حدیث ذکر کی۔