السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: هدي المتمتع بالعمرة إلى الحج وصومه باب: عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے والے کی قربانی اور اس کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ، أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ، أَوْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَدِ اسْتَمْتَعَ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ، وَالصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَرَوَيْنَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتْعَةِ: إِنَّهَا لَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے حج کے مہینوں، یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں عمرہ کیا تو وہ متمتع ہو گیا اور اس پر قربانی واجب ہے، اگر نہ ملے تو روزے رکھے۔
اس سے پہلے باب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بات جو انہوں نے تمتع کے بارے میں کہی وہ ہم نے بیان کر دی کہ وہ متمتع نہیں ہو گا مگر یہ کہ قربانی کرے، اگر قربانی نہیں ہے تو روزہ رکھے، تین روزے حج میں اور سات جب گھر واپس لوٹے۔ عمرہ حج کے مہینوں کے علاوہ بغیر قربانی اور روزے کے مکمل ہوتا ہے۔