أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا أُحْصِي وَلَا أَعُدُّ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا جس قدر میں نے نبی کریم ﷺ کو مسواک کرتے دیکھا ہے اور آپ ﷺ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ " مُجَالِدٌ غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَعَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزے دار کے بہترین خصائل میں سے مسواک کرنا ہے۔“
مجالد سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور عاصم بن عبیداللہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔
مجالد سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور عاصم بن عبیداللہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ فِهْرٍ بِمَكَّةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْخُوَارَزْمِيُّ، قَاضِي خُوَارَزْمَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَيَّامَ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَاكُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ "، فَقُلْتُ: بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: " عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَيْطَارٍ، وَيُقَالُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي ⦗٤٥٣⦘ خُوَارَزْمَ حَدَّثَ بِبَلْخٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِالْمَنَاكِيرِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
قاضیٔ خوارزم ابو اسحاق خوارزمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عاصم احول سے پوچھا کہ کیا روزے دار بھی مسواک کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: مسواک تر یا خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دن کے شروع یا آخر میں بھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کس نے بیان کیا؟ انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَزْدَكٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ عَنِ السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ "، فَقُلْتُ بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ، فَقَالَ: " أَتُرَاهُ أَشَدَّ رُطُوبَةً مِنَ الْمَاءِ؟ " قُلْتُ عَمَّنْ، قَالَ " عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: إِبْرَاهِيمُ هَذَا عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے عاصم احول سے روزے دار کی مسواک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، تو میں نے کہا: تر اور خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی رطوبت پانی سے بھی زیادہ ہے؟ میں نے کہا: آپ نے کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَدْأَبَ سِوَاكًا وَهُوَ صَائِمٌ مِنْ عُمَرَ " أَرَاهُ قَالَ: " بِعُودٍ قَدْ ذَوِيَ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ يَعْنِي يَبِسَ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن حدیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایک کو نہیں دیکھا جو مسواک کی زیادہ سے زیادہ مواظبت کرنے والا ہو روزے کی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: لکڑی سے، ابو عبیدہ نے کہا: یعنی خشک لکڑی سے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔