السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: السواك للصائم باب: روزہ دار کے لیے مسواک کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ فِهْرٍ بِمَكَّةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْخُوَارَزْمِيُّ، قَاضِي خُوَارَزْمَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَيَّامَ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَاكُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ "، فَقُلْتُ: بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: " عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَيْطَارٍ، وَيُقَالُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي ⦗٤٥٣⦘ خُوَارَزْمَ حَدَّثَ بِبَلْخٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِالْمَنَاكِيرِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ.قاضیٔ خوارزم ابو اسحاق خوارزمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عاصم احول سے پوچھا کہ کیا روزے دار بھی مسواک کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: مسواک تر یا خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دن کے شروع یا آخر میں بھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کس نے بیان کیا؟ انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔