کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے روزہ دار کے لیے پچھلے پہر مسواک کرنے کو مکروہ قرار دیا، اس لیے کہ روزہ دار کے منہ کی بو پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8331
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْهَرَوِيُّ فِي الرَّوْضَةِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ الرَّفَّاءِ قُلْتُ لَهُ أَخْبَرَكُمْ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ: الصَّوْمُ لِي ⦗٤٥٤⦘ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللهَ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا کہ وہ اپنی خواہش کو ترک کر دیتا ہے، کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے میری وجہ سے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب کی ملاقات کے وقت ہو گی اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی عمدہ ہے۔“
حدیث نمبر: 8332
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَ الْعَلَوِيُّ: أنبأ وَقَالَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ الصَّوْمُ جُنَّةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر عمل کو بڑھایا جاتا ہے، ایک نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک، سوائے روزے کے، بیشک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کہ وہ میری وجہ سے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو شادمانیاں ہیں: ایک شادمانی افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت ہوگی، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی اطیب و عمدہ ہے، اور روزہ ڈھال ہے، روزہ ڈھال ہے۔“
حدیث نمبر: 8333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا اور یہ کہ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اس کی جزا اسے خوش کر دے گی اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسند ہے۔“
حدیث نمبر: 8334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ كَيْسَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ مَوْلَاهُ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَا يَسْتَاكُ الصَّائِمُ بِالْعَشِيِّ وَلَكِنْ بِاللَّيْلِ فَإِنَّ يُبُوسَ شَفَتَيِ الصَّائِمِ نُورٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن بلال، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے وقت روزے دار مسواک نہ کرے لیکن رات کو کرے، بے شک صائم کے ہونٹوں کا خشک ہونا قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوگا۔ (ضعیف) الطبرانی۔
حدیث نمبر: 8335
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الظُّفُرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حِبَّانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِيمَا يَرْوِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " ⦗٤٥٥⦘ فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْأَحَادِيثِ وَأَحْكَمِهَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحَاسِبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ وَيُؤَدِّي مَا عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الصَّوْمُ فَيَتَحَمَّلُ اللهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيُدْخِلُهُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اے ابو محمد! وہ روایت جو نبی ﷺ اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ”بنو آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دوں گا۔“
حدیث نمبر: 8336
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْقَصَّابُ كَيْسَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " إِذَا صُمْتُمْ فَاسْتَاكُوا بِالْغَدَاةِ وَلَا تَسْتَاكُوا بِالْعَشِيِّ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَائِمٍ تَيْبَسُ شَفَتَاهُ بِالْعَشِيِّ إِلَّا كَانَتَا نُورًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن بلال سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب تم روزہ رکھو تو صبح کے وقت مسواک کرو، شام کے وقت مسواک نہ کرو، وہ اس لیے کہ روزے دار کے ہونٹ شام کے وقت خشک نہیں ہوتے مگر وہ قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوں گے۔
حدیث نمبر: 8337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو خُرَاسَانَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا كَيْسَانُ أَبُو عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَبَّابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ عَلِيٌّ: كَيْسَانُ أَبُو عُمَرَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَمَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ غَيْرُ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، خباب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8338
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَيَّاطُ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَكَ السِّوَاكُ إِلَى الْعَصْرِ فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَلْقِهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: مسواک تیرے لیے عصر تک ہے، جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو پھر اسے رکھ دو۔ بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: ”روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔“