کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: روزہ دار کا حجامہ (پچھنے) لگوانا اس کے روزے کو فاسد نہیں کرتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، وَابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَخْرَمِيُّ، قَالُوا ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فِي رِوَايَةِ تَمْتَامٍ ثنا أَيُّوبُ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سنگی لگوائی اور آپ ﷺ صائم تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ وَرَوَاهُ أَيْضًا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ و مدینہ کے درمیان سنگی لگوائی اور آپ ﷺ صائم و محرم تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، وَهُوَ يَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَكُنْتُمْ تَكْرَهُوَنَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ؟ قَالَ: " لَا، إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا ⦗٤٣٩⦘ الْبُنَانِيَّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ وَالصَّحِيحُ مَا رُوِّينَا عَنْ آدَمَ، فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُمَيْدٍ كَمَا رُوِّينَا.
حافظ ثناء اللہ
حمید کہتے ہیں: میں نے ثابت بنانی سے سنا اور وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا تم روزے دار کے لیے سنگی کو ناپسند کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں مگر کمزوری کی وجہ سے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُوَاصَلَةِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، فَقَالَ: " إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اصحابِ محمد ﷺ میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پے درپے روزے اور سنگی لگوانے سے روزے دار کو منع فرمایا ہے۔ یہ اپنے صحابہ پر شفقت کی وجہ سے تھا، حرام قرار نہیں دیا، تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس حال میں دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: " إِنَّمَا كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ مَخَافَةَ الضَّعْفِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، ابوالمتوکل رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روزے دار کے لیے سنگی (لگوانا) ناپسند کیا جاتا ہے، کمزوری کے ڈر سے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، وَأَبُو عُبَيْدِ بْنُ الْمَحَامِلِيِّ قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ وَالْحِجَامَةِ قَالَ عَلِيٌّ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، وَغَيْرُ مُعْتَمِرٍ يَرْوِيهِ مَوْقُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صائم کو بوسہ لینے اور سنگی لگوانے کی اجازت دی“۔
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور معتمر کے علاوہ دوسرے راوی اسے موقوف بیان کرتے ہیں۔ اور یہ ایک دوسری سند سے ابوالمتوکل سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور معتمر کے علاوہ دوسرے راوی اسے موقوف بیان کرتے ہیں۔ اور یہ ایک دوسری سند سے ابوالمتوکل سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ السِّمْنَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”صائم کو سنگی لگوانے کی اجازت دی“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمُعَدَّلُ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ بِوَاسِطَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْبَزَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، ⦗٤٤٠⦘ قَالَ عَلِيٌّ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ أَيْضًا وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ قَالَ الشَّيْخُ: إِلَّا أَنَّ الْأَشْجَعِيَّ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ رَخَّصَ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق ارزق رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سفیان رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور اسے اشجعی نے بھی روایت کیا ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ البتہ اشجعی نے اپنی روایت میں ”اجازت دی گئی“ کے الفاظ کہے ہیں۔
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور اسے اشجعی نے بھی روایت کیا ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ البتہ اشجعی نے اپنی روایت میں ”اجازت دی گئی“ کے الفاظ کہے ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رُخِّصَ لِلصَّائِمِ فِي الْحِجَامَةِ وَالْقُبْلَةِ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کو سنگی اور بوسہ لینے کی اجازت دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا يَحْيَى هُوَ الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قے کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی سینگی لگوانے والے کا اور نہ ہی اس کا جسے احتلام ہو جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَبُو زَيْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ، الْقَيْءُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْحُلْمُ " كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں روزے نہیں توڑتیں: ایک قے، دوسری حجامت، تیسری احتلام ہے۔“
اسے عبدالرحمن بن زید نے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
اسے عبدالرحمن بن زید نے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ نَحْوُ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَرُوِّينَا فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَعَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور نہ ہی اس کا جس نے سنگی لگوائی اور نہ ہی اس کا جسے احتلام ہوا۔“
(صحیح سفیان ثوری وغیرہ کی روایت ہے۔ عبدالرحمن بن زید کی سی روایت ثوری سے بیان کی گئی ہے مگر وہ صحیح نہیں ہے، جبکہ اس بارے میں رخصت سیدنا سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، حسین بن علی، زید بن ارقم، عائشہ بنت صدیق اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہم تک روایت کی گئی ہے۔)
(صحیح سفیان ثوری وغیرہ کی روایت ہے۔ عبدالرحمن بن زید کی سی روایت ثوری سے بیان کی گئی ہے مگر وہ صحیح نہیں ہے، جبکہ اس بارے میں رخصت سیدنا سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، حسین بن علی، زید بن ارقم، عائشہ بنت صدیق اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ہم تک روایت کی گئی ہے۔)