کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: روزہ دار کا اپنے سر پر پانی ڈالنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ بِالْفِطْرِ عَامَ الْفَتْحِ وَقَالَ: " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ " وَصَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن بعض اصحابِ نبی ﷺ رضی اللہ عنہم سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ کے سال سفر میں لوگوں کو افطار کا حکم دیا اور فرمایا: ”دشمن کے لیے قوت حاصل کرو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا۔ ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں: مجھے اس نے کہا جس نے حدیث بیان کی: میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرج مقام پر دیکھا، آپ ﷺ اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے پیاس کی وجہ سے اور آپ ﷺ روزے سے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8261
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني تخريحه»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَكْرَعُ فِي حِيَاضِ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
منذر بن ابی المنذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ زمزم کے کنویں سے سر پر پانی ڈال رہے تھے اور وہ روزے سے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8262
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الجنة بن منذر»