کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب روزہ مشقت میں ڈال دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ صِيَامٌ فِي السَّفَرِ " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَسَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ مَرَّةً يَقُولُ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ السَّفِينَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَوْمٌ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَفْدِ الْيَمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس یمن کا وفد آیا، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس یمن کا وفد آیا، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سفر میں تھے، آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس پر سایہ کیا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا، انہوں نے کہا: وہ روزے دار ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " فَقَالُوا: هَذَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے کہ آپ ﷺ نے ایک جگہ رش دیکھا اور ایک آدمی کو دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ روزے دار ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَاصِمٌ، قَالَ أَبُو يَعْلَى: ⦗٤٠٩⦘ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَكْثَرُنَا ظِلًّا يَوْمَئِذٍ الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَاءٍ، فَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَسَقُوا الرِّكَابَ، وَامْتَهَنُوا، وَعَالَجُوا، وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يُعَالِجُوا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ بِالْأَجْرِ " هَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ، أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ، فَمِنَّا مَنْ يتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقُوا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم میں سے اکثر وہی تھے جنہوں نے کپڑے وغیرہ سے سایہ حاصل کیا ہوا تھا، لیکن جو بے روزہ تھے، انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، ان کو تیار کیا اور آرام پہنچایا، لیکن جو روزے دار تھے انہوں نے ایسا کچھ بھی نہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”افطار کرنے والے اجر میں آگے بڑھ گئے ہیں۔“
ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ صائم اور کچھ بے روزہ تھے، ایک گرم دن میں ہم ایک جگہ اترے، ہم میں سے کپڑوں والے اکثر سائے میں تھے، سو ہم میں سے وہ بھی تھے جو ہاتھوں کے ساتھ سورج سے بچ رہے تھے تو روزے دار گر پڑے اور بے روزہ کھڑے رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج بے روزہ اجر میں سبقت لے گئے۔“
ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ صائم اور کچھ بے روزہ تھے، ایک گرم دن میں ہم ایک جگہ اترے، ہم میں سے کپڑوں والے اکثر سائے میں تھے، سو ہم میں سے وہ بھی تھے جو ہاتھوں کے ساتھ سورج سے بچ رہے تھے تو روزے دار گر پڑے اور بے روزہ کھڑے رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج بے روزہ اجر میں سبقت لے گئے۔“