کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب دشمن سے مقابلے کا ارادہ ہو۔
حدیث نمبر: 8146
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ، فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں فتح والے سال نکلے تو انہوں نے روزہ رکھا حتیٰ کہ کراع الغمیم پہنچے اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ روزہ رکھا تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں پر روزہ مشکل ہو گیا ہے تو آپ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا اور لوگ دیکھ رہے تھے تو کچھ نے افطار کیا اور کچھ نے افطار نہ کیا، آپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نافرمان لوگ ہیں۔“
حدیث نمبر: 8147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: " وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ ". ⦗٤٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
قتبیہ بن سعید، عبدالعزیز سے اسی معنی میں حدیث نقل فرماتے ہیں اور یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ وہ دیکھ رہے تھے جو آپ ﷺ نے کیا۔
حدیث نمبر: 8148
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، فَأَنْبَأَنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَيْنِ، مِنْهُمُ الصَّائِمُ وَالْمُفْطِرُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْمَنْزِلَ الَّذِي نَلْقَى الْعَدُوَّ فِيهِ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ: حَتَّى إِذَا بَلَغَ الظَّهْرَانَ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے فتح والے سال میں کوچ کا حکم دیا، جبکہ رمضان کی دو راتیں گزر چکی تھیں، تو ہم روزے کی حالت میں نکلے حتیٰ کہ جب ہم کدید مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں افطار کا حکم دیا تو لوگ دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں «صَائِمٌ» ”روزہ دار“ بھی تھے اور «مُفْطِرٌ» ”بغیر روزے والے“ بھی تھے، حتیٰ کہ جب ہم اس مقام پر پہنچے جہاں ہم نے دشمن سے ملنا تھا تو آپ ﷺ نے افطار کا حکم دیا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ مقامِ مرظہران پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ مقامِ مرظہران پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔
حدیث نمبر: 8149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَأَلَكَ هَؤُلَاءِ، أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ "، فَكَانَتْ رُخْصَةً، مِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُوا عَدُوَّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا "، فَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم روزے سے تھے، ہم منزل پر اترے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو چکے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا“ اور یہ رخصت تھی، تو ہم میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے روزہ رکھا اور بعضوں نے افطار کیا۔ پھر ہم دوسری منزل پر اترے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم دشمن پر صبح کرنے والے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا، سو تم افطار کر لو۔“ یہ عزیمت تھی، سو ہم نے افطار کر لیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم نے ہمیں دیکھا کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8150
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ: " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ "، وَصَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنَ الْعَطَشِ، أَوْ مِنَ الْحَرِّ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ صَامُوا حِينَ صُمْتُ، فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فتح کے سال سفر میں لوگوں کو افطار کر لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ”دشمن کے لیے قوت حاصل کرو“ اور نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا اور ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرج مقام پر دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے، پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے۔ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ایک جماعت نے روزہ رکھا ہے جب کہ آپ ﷺ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا، پھر جب آپ ﷺ کدید مقام پر پہنچے تو پیالہ منگوایا اور پی لیا، تو لوگوں نے بھی افطار کر لیا۔