أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصُومُ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ اور وہ بہت روزے رکھا کرتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو رکھ لے، اگر چاہے تو افطار کر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، تو کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ چاہے تو افطار کر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " ⦗٤١٠⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں سفر میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جس نے اسے قبول کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابنِ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن حارث رحمہ اللہ نے ایسے ہی حدیث ذکر کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا اور روزہ رکھا حتی کہ عسفان پہنچے، پھر آپ ﷺ نے پانی کا برتن منگوایا اور دن میں پیا تاکہ لوگوں کو دکھائیں اور آپ ﷺ نے افطار کیا حتی کہ مکہ آگئے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا اور افطار بھی کیا، جو چاہے روزہ رکھے اور جو کوئی چاہے نہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْحُسَيْنِ: فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو کسی صائم نے مفطر پر کوئی اعتراض نہ کیا اور نہ ہی کسی مفطر نے کسی صائم پر اعتراض کیا۔
ابی الحسین کی ایک روایت میں ہے کہ ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے تھے، مگر روزے دار نے بے روزے پر کوئی عیب نہ لگایا اور نہ ہی مفطر نے روزے دار کو۔
ابی الحسین کی ایک روایت میں ہے کہ ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے تھے، مگر روزے دار نے بے روزے پر کوئی عیب نہ لگایا اور نہ ہی مفطر نے روزے دار کو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعِبْ صَائِمٌ عَلَى مُفْطِرٍ، وَلَا مُفْطِرٌ عَلَى صَائِمٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
حمید طویل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سفر میں روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کیا، تو ہم میں سے صائم نے مفطر پر کوئی عیب نہ لگایا اور نہ ہی کسی مفطر نے صائم پر عیب لگایا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِي: أَعِدْ فَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُسَافِرُونَ فَلَا يَعِيبُ ⦗٤١١⦘ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو خالد احمر، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ میں روزے کی حالت میں نکلا تو انہوں نے مجھ سے کہا: ”اس روزے کو دوبارہ رکھ (قضا کر)“، میں نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ اصحابِ نبی ﷺ سفر کیا کرتے تھے اور کوئی صائم مفطر پر عیب نہیں لگاتا تھا اور نہ ہی کوئی مفطر صائم پر، میں ابن ابی ملیکہ سے ملا تو انہوں نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایسی ہی حدیث سنائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَهُ فِي سَفَرٍ: يَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، لَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيِّ وَغَيْرُهُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور مفطر افطار کرتا، لیکن کوئی صائم مفطر پر عیب نہ لگاتا اور نہ کوئی افطار کرنے والا روزے دار پر عیب لگاتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حدَّثَنِي زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ، حدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: وَافَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فِي سَفَرٍ فَصَامَهُ وَوَافَقَهُ رَمَضَانُ فِي سَفَرٍ فَأَفْطَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو رمضان میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور بسا اوقات آپ ﷺ کو رمضان میں سفر کا اتفاق ہوا تو آپ ﷺ نے افطار کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: " كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ بِالشَّامِ فَخَطَبَ مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فَقَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ فَلْيَقْضِهِ، فَسَأَلْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ، رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ صُمْتُ ثُمَّ صُمْتُ حَتَّى عَدَّ عَشْرًا لَمْ أَقْضِهِ " وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ، وَفِي إِسْنَادِهِ انْقِطَاعٌ، وَرُوِيَ مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الفیض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں شام میں ایک غزوے میں تھا تو مسلمہ بن عبدالملک نے خطبہ دیا اور کہا: جس نے سفر میں رمضان کا روزہ رکھا، اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے۔ میں نے ابو قرصافہ رضی اللہ عنہ سے، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اگر میں روزہ رکھوں، پھر روزہ رکھوں، یہاں تک کہ انہوں نے دس تک گنا، تو بھی میں ان کی قضا نہیں کروں گا۔
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسے ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔ یہ موقوف ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے، اور یہ مرفوعاً بھی مروی ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنے والا ایسے ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔ یہ موقوف ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے، اور یہ مرفوعاً بھی مروی ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے۔