السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: تأكيد الفطر في السفر إذا كان يجهده الصوم باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب روزہ مشقت میں ڈال دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَاصِمٌ، قَالَ أَبُو يَعْلَى: ⦗٤٠٩⦘ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَكْثَرُنَا ظِلًّا يَوْمَئِذٍ الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَاءٍ، فَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَسَقُوا الرِّكَابَ، وَامْتَهَنُوا، وَعَالَجُوا، وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يُعَالِجُوا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ بِالْأَجْرِ " هَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ، أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ، فَمِنَّا مَنْ يتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقُوا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم میں سے اکثر وہی تھے جنہوں نے کپڑے وغیرہ سے سایہ حاصل کیا ہوا تھا، لیکن جو بے روزہ تھے، انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، ان کو تیار کیا اور آرام پہنچایا، لیکن جو روزے دار تھے انہوں نے ایسا کچھ بھی نہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”افطار کرنے والے اجر میں آگے بڑھ گئے ہیں۔“
ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ صائم اور کچھ بے روزہ تھے، ایک گرم دن میں ہم ایک جگہ اترے، ہم میں سے کپڑوں والے اکثر سائے میں تھے، سو ہم میں سے وہ بھی تھے جو ہاتھوں کے ساتھ سورج سے بچ رہے تھے تو روزے دار گر پڑے اور بے روزہ کھڑے رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج بے روزہ اجر میں سبقت لے گئے۔“