کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کا بیان جس نے اس حال میں کھا لیا کہ اسے فجر طلوع ہونے میں شک تھا۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَتَى أَدَعُ السُّحُورَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: إِذَا شَكَكْتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " كُلْ مَا شَكَكْتَ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو الضحیٰ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں سحری کب ترک کروں؟ تو آدمی نے کہا: جب تجھے شک ہونے لگے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تک تجھے شک رہے کھاتا رہ، یہاں تک کہ تیرے لیے واضح ہو جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8038
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلَيْنِ يَنْظُرَانِ إِلَى الْفَجْرِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَصْبَحْتُ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَا، قَالَ: " اخْتَلَفْتُمَا أَرِنِي شَرَابِي " وَرُوِيَ فِي هَذَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ فجر کو دیکھیں، تو ان میں سے ایک نے کہا: تو نے صبح کر لی اور دوسرے نے کہا: تو نے صبح نہیں کی۔ انہوں نے کہا: تم اختلاف کرتے ہو، میرے لیے پانی لاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8039
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»