کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " وَمَا أَهْلَكَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدْ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا " فَقَالَ: أَفْقَرُ مِنَّا، فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بَيْتٌ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس استطاعت ہے کہ تو غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینوں کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا؟“ اس نے کہا: نہیں، پھر وہ بیٹھ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر دے“، پھر اس نے کہا: اس وادی میں مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں، تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جا، اپنے اہل و عیال کو کھلا دے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ: " أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ ⦗٣٧٥⦘ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ، فَقَالَ " أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ "، فَقَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ: " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لِهَذَا، فَمَنْ أَصَابَ مِثْلَ مَا أَصَابَ فَلْيَصْنَعْ مَا أُمِرَ بِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی سے رمضان میں صحبت کر لی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے جس کے ساتھ غلام آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو پاتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا اور وہ بڑا ٹوکرا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اپنی طرف سے کھلا دے۔“ تو اس نے کہا: ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل کو ہی کھلا دے۔“
محمد بن مسلم فرماتے ہیں: یہ رخصت اسی کے لیے تھی، جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کر لے جس طرح حکم ہے۔
محمد بن مسلم فرماتے ہیں: یہ رخصت اسی کے لیے تھی، جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کر لے جس طرح حکم ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: " فَخُذْهَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: " خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ: بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ هَكَذَا. وَذَكَرَهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَجَعَلَ هَذَا التَّقْدِيرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ تَقْدِيرُ الْمِكْتَلِ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو مہینے کے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں استطاعت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے اور اپنی طرف سے کھلا دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جا اور اپنے اہل کو کھلا۔“
اور ٹوکرے میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ ٹوکرے کا پندرہ صاع کا اندازہ عمرو بن شعیب کی روایت سے ہے، واللہ اعلم۔
اور ٹوکرے میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ ٹوکرے کا پندرہ صاع کا اندازہ عمرو بن شعیب کی روایت سے ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ⦗٣٧٦⦘ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " زَادَ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ " مُتَتَابِعَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے کہا: اپنی بیوی سے میں نے رمضان میں صحبت کر لی، اس نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“
ابن بکیر نے «مُتَتَابِعَيْنِ» کا لفظ اضافی بیان کیا ہے۔
ابن بکیر نے «مُتَتَابِعَيْنِ» کا لفظ اضافی بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَجِدُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ: " اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا "، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لِلرَّجُلِ وَحْدَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا أَنْ يُكَفِّرَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَى هَؤُلَاءِ رَوَاهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَيْرُهُمَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور گویا ہوا کہ میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم سے زیادہ محتاج ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ مسکرا دیے، پھر فرمایا: ”اسے اپنے اہل و عیال کے پاس لے جا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ، فَسَأَلَهُ: " مَا لَهُ؟ " فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقُ، فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ " فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ⦗٣٧٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، آپ ﷺ کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جسے «الْعَرَقُ» کہا جاتا ہے، اس میں کھجور تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حدَّثَنِي الْأُوَيْسِيُّ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ فَارِعٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، فَقَالَ " تَصَدَّقْ "، فَقَالَ: مَا نَجِدُ عَشَاءً لَيْلَةً، قَالَ: " فَعُدْ بِهِ عَلَى أَهْلِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: الزِّيَّادَاتُ الَّتِي فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ حِفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَنْ دُونَهُ لِتِلْكَ الْقِصَّةِ، وَقَوْلُهُ: فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، بَلَاغٌ بَلَّغَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ هَذَا، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ كَانَتْ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَهُوَ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ فارع کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جو بنو بیاضہ میں سے تھا، کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا کہ رمضان کے مہینے میں بیوی پر واقع ہو گیا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر“، اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا“۔ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، پھر آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں بیس صاع تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر“۔ اس نے کہا: ہمارے پاس آج رات کا کھانا نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل پر لوٹا دے“۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زائد باتیں ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نیچے کے راویوں کے اس قصے کو صحیح یاد رکھنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ کہنا کہ اس میں بیس صاع تھے، ایک بلاغ ہے جو محمد بن جعفر تک پہنچا، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پندرہ صاع مروی ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زائد باتیں ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نیچے کے راویوں کے اس قصے کو صحیح یاد رکھنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ کہنا کہ اس میں بیس صاع تھے، ایک بلاغ ہے جو محمد بن جعفر تک پہنچا، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پندرہ صاع مروی ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔