السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى إعادة صومه وإن لم يأكل ولم يشرب وحديث الأمر بالقضاء في صوم عاشوراء يحتمل أن يكون عاما في الذي أكل والذي لم يأكل، ويحتمل غير ذلك، وقد اختلفوا في كونه واجبا في الأصل باب: اس شخص کی رائے کا بیان جس نے روزہ دہرانے کو ضروری سمجھا، خواہ اس نے کھایا پیا نہ ہو، اور عاشورہ کے روزے کی قضا کے حکم پر مبنی حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ یہ حکم کھانے والے اور نہ کھانے والے دونوں کے لیے عام ہو، اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال رکھتی ہے، اور علما کا عاشورہ کے روزے کے اصلاً واجب ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 8037
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا صِيَامَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رات سے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں۔“