کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ " قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِيمَ؟ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنِ ازْدَرَدَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا: میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کا کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کس بات سے پریشان ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8018
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الحاكم»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو ⦗٣٦٩⦘ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8019
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ الرِّيَاحِيُّ فِي رِوَايَتِهِ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ عَوَامِّ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ أَنَّ الْمُنَادِيَ كَانَ يُنَادِي قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِحَيْثُ يَقَعُ شُرْبُهُ قُبَيْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَقَوْلُ الرَّاوِي: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا مُنْقَطِعًا مِمَّنْ دُونَ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ يَكُونُ خَبَرًا عَنِ الْأَذَانِ الثَّانِي، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ " خَبَرًا عَنِ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان کہتا جب فجر روشن ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو ضرورت پوری کر لے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ ﷺ کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8020
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ "، قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ: " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ: هَكَذَا، الْفَجْرُ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان سحری سے نہ روکے، وہ تو تمہیں نیند سے بیدار کرنے کے لیے اذان کہتا ہے اور قیام کرنے والے کو لوٹاتا ہے۔“
جریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک بلال رات کو اذان کہتا ہے، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مقفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٧٠⦘ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَيْتُ فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَا يَحْيَى "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " ادْنُهْ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، قَالَ: " وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، وَلَكِنْ مُؤَذِّنُنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ، أَوْ شَيْءٌ، أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ " كَذَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَبُو هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، فَإِنْ صَحَّ فَكَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِينُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمْ يَمْتَنِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَكْلِ، وَعَلَى هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا تَتَّفِقُ الْأَخْبَارُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے مؤذن کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ ﷺ کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8023
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني»