کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ظاہر ہوا کہ وہ غروب نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ثُمَّ بَدَتْ لَنَا الشَّمْسُ، فَقُلْتُ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: فَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک بادل والے دن میں روزہ افطار کیا، پھر سورج نکل آیا تو میں نے ہشام سے کہا: پھر انہیں قضا کا حکم دیا گیا، یہی اس کا حل ہے۔
حدیث نمبر: 8012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ عُمَرُ: " الْخَطْبُ يَسِيرٌ، وَقَدِ اجْتَهَدْنَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُ، وَعَلَى ذَلِكَ حَمَلَهُ أَيْضًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَرَ مُفَسَّرًا فِي الْقَضَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے بھائی خالد بن اسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک بادلوں والے دن میں روزہ افطار کیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شام ہو چکی ہے اور سورج غروب ہو چکا ہے، پھر ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین! سورج نکل آیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: فرق تو تھوڑا ہی ہے، ویسے ہم نے اجتہاد کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 8013
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُتِيَ بِجَفْنَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: الشَّمْسُ طَالِعَةٌ، فَقَالَ: " أَغْنَى الله عَنَّا شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نُرْسِلْكَ دَاعِيًا لِلشَّمْسِ، إِنَّمَا أَرْسَلْنَاكَ دَاعِيًا إِلَى الصَّلَاةِ، يَا هَؤُلَاءِ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَفْطَرَ فَقَضَاءُ يَوْمٍ يَسِيرٌ، وَإِلَّا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَعْلَى فَأَتَيْنَا بِطَعَامٍ فَأَفْطَرَ، وَقَالَ: " فَمَا أَيْسَرَ قَضَاءَ يَوْمٍ، وَمَنْ لَا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ رمضان کے مہینے میں ایک ٹب لایا گیا، مؤذن نے کہا: ابھی سورج ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے محفوظ رکھے، ہم نے تجھے سورج دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا، ہم نے تجھے نماز کی طرف بلانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! جس نے تم میں سے روزہ افطار کر لیا ہے وہ ایک دن کی قضا دے یا اپنے روزے کو پورا کرے۔
حدیث نمبر: 8014
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَنْظَلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ صَدِيقًا لِعُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ، فَصَعِدَ الْمُؤَذِّنُ لِيُؤَذِّنَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذِهِ الشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَفَانَا اللهُ شَرَّكَ، إِنَّا لَمْ نَبْعَثْكَ دَاعِيًا "، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ كَانَ أَفْطَرَ فَلْيَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد کے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا، پھر مؤذن اذان کے لیے اوپر چڑھا تو اس نے کہا: لوگو! یہ رہا سورج ابھی تو غروب نہیں ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمیں تیرے شر سے کافی ہو، ہم نے تجھے یہ دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے تم میں سے افطار کر لیا ہے وہ اس کے عوض ایک روزہ رکھے۔
حدیث نمبر: 8015
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ عِلَاقَةَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَهُ عَشِيَّةً فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَوْمُ غَيْمٍ، فَظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَسَقَانِي، ثُمَّ نَظَرُوا إِلَيْهَا عَلَى سَفْحِ الْجَبَلِ، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا نُبَالِي وَاللهِ، نَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ زِيَادٍ وَفِي تَظَاهُرِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَضَاءِ دَلِيلٌ عَلَى خَطَأِ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فِي تَرْكِ الْقَضَاءِ وَهِيَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
بشر بن قیس، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور اس دن بادل چھائے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر انہوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی بات نہیں، ہم اس کے عوض ایک روزہ رکھیں گے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان روایات کا واضح آنا غلطی کی صورت میں قضا کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور زید بن وہب کی روایت کے مطابق قضا کے ترک کی ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان روایات کا واضح آنا غلطی کی صورت میں قضا کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور زید بن وہب کی روایت کے مطابق قضا کے ترک کی ہے۔
حدیث نمبر: 8016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، وَالسَّمَاءُ مُتَغَيِّمَةٌ فَرَأَيْنَا أَنَّ ⦗٣٦٨⦘ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، وَأَنَّا قَدْ أَمْسَيْنَا، فَأُخْرِجَتْ لَنَا عِسَاسٌ مِنْ لَبَنٍ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَشَرِبَ عُمَرُ وَشَرِبْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ ذَهَبَ السَّحَابُ وَبَدَتِ الشَّمْسُ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَقُولُ لِبَعْضٍ: نَقْضِي يَوْمَنَا هَذَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَقَالَ: " وَاللهِ لَا نَقْضِيهِ وَمَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ " كَذَا رَوَاهُ شَيْبَانُ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَكَانَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ يَحْمِلُ عَلَى يَدِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ الْمُخَالِفَةِ لِلْرِوَايَاتِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَيَعُدُّهَا مِمَّا خُولِفَ فِيهِ، وَزَيْدٌ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ الْخَطَأَ غَيْرُ مَأْمُونٍ، وَاللهُ يَعْصِمُنَا مِنَ الزَّلَلِ وَالْخَطَايَا بِمَنِّهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مدینہ کی مسجد میں بیٹھے تھے، رمضان کی بات ہے اور آسمانوں پر بادل تھے۔ ہم نے سوچا کہ سورج غروب ہو چکا ہے اور ہم نے شام کر لی تو ہمارے لیے بیتِ حفصہ رضی اللہ عنہا سے دودھ کا ایک ٹب نکالا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پیا اور ہم نے بھی پیا۔ ہم ابھی تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ بادل چھٹ گئے اور سورج نکلا تو ہم میں سے بعض نے کہا: ہم قضا کر دیں گے۔ یہ بات عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قضا نہیں کریں گے، ہم نے یہ گناہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔
یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطا سے مامون نہیں ہیں، اللہ ہمیں پھسلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔
یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطا سے مامون نہیں ہیں، اللہ ہمیں پھسلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔
حدیث نمبر: 8017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ عُمَرِو بْنِ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ أَتَى عَلَيْهِ مِائَةٌ وَخَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، قَالَ: أَفْطَرْنَا مَعَ صُهَيْبٍ الْحَبْرِ، أَنَا وَأَبِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ وَطَشٍّ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَعَشَّى إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صُهَيْبٌ: " طُعْمَةُ اللهِ، أَتِمُّوا صِيَامَكُمْ إِلَى اللَّيْلِ، وَاقْضُوا يَوْمًا مَكَانَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شعیب بن عمرو بن سلیم رضی اللہ عنہ ایک سو پندرہ سال کی عمر میں تھے، فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ افطار کیا، میں اور میرے والد رمضان کے مہینے میں بارش اور بادلوں والے ایک دن میں ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ سورج ظاہر ہو گیا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ اللہ کی طرف سے کھلانا تھا، لہٰذا تم اپنا روزہ رات تک پورا کرو اور اس کی جگہ ایک روزہ کی قضا کرنا۔“