السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ الرِّيَاحِيُّ فِي رِوَايَتِهِ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ عَوَامِّ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ أَنَّ الْمُنَادِيَ كَانَ يُنَادِي قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِحَيْثُ يَقَعُ شُرْبُهُ قُبَيْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَقَوْلُ الرَّاوِي: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا مُنْقَطِعًا مِمَّنْ دُونَ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ يَكُونُ خَبَرًا عَنِ الْأَذَانِ الثَّانِي، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ " خَبَرًا عَنِ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِمَا.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان کہتا جب فجر روشن ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو ضرورت پوری کر لے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ ﷺ کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔