السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ " قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِيمَ؟ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنِ ازْدَرَدَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا: میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کا کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کس بات سے پریشان ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔