حدیث نمبر: 8023
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٧٠⦘ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَيْتُ فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَا يَحْيَى "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " ادْنُهْ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، قَالَ: " وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، وَلَكِنْ مُؤَذِّنُنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ، أَوْ شَيْءٌ، أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ " كَذَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَبُو هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، فَإِنْ صَحَّ فَكَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِينُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمْ يَمْتَنِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَكْلِ، وَعَلَى هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا تَتَّفِقُ الْأَخْبَارُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے مؤذن کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔“
اس حدیث کی سند میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے جیسے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہوئی تو آپ ﷺ نے کھانے سے منع نہیں کیا، اسی وجہ سے ہم نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور تمام اخبار موافق نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8023
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني»