کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ الظَّنُونُ، قَالَ: " يُزَكِّيهِ لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ". حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَوْلُهُ: الظَّنُونُ: هُوَ الَّذِي لَا يَدْرِي صَاحِبُهُ أَيَقْضِيهِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَمْ لَا، كَأَنَّهُ الَّذِي لَا يَرْجُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کیا جو انہوں نے ایسے شخص کے متعلق بیان کی جو ایسا مقروض ہے جس کو قرض ملنے کی امید ہے تو انہوں نے کہا: اگر وہ سچا ہے تو جب اس کے قبضے میں مال آئے گا، تب اس کی زکاۃ ادا کرے گا۔
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں انسان جانتا نہیں کہ وہ حاصل ہوگا یا نہیں، گویا کہ وہ ناامید ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7623
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ذكره ابو عبيد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " زَكُّوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيكُمْ، وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ فِي ثِقَةٍ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ مَا فِي أَيْدِيكُمْ وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ ظَنُونٍ فَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو مال تمہاری ملک میں ہے، اس کی زکوٰۃ ادا کرو اور جو قرض ہے وہ ایسا ہی مال ہے، جو ملک میں نہیں اور جو مال ناامید قرض کی صورت میں ہے، اس میں تب تک زکوٰۃ نہیں جب تک قبضے میں نہ آئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7624
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٥٣⦘ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، وَكَانَ عَلَى بَيْتِ مَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنَ الدَّيْنِ الزَّكَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِذَا خَرَجَتِ الْأَعْطِيَةُ حَبَسَ لَهُمُ الْعُرَفَاءُ دُيُونَهُمْ وَمَا بَقِيَ فِي أَيْدِيهِمْ أُخْرِجَتْ زَكَاتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضُوا ثُمَّ دَايَنَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ دُيُونًا هَالِكَةً فَلَمْ يَكُونُوا يَقْبِضُونَ مِنَ الدَّيْنِ الصَّدَقَةَ إِلَّا مَا نَضَّ مِنْهُ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَبَضُوا الدَّيْنَ أَخْرَجُوا عَنْهَا لِمَا مَضَى مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیت المال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ قرض سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے اور وہ ایسے کہ جب لوگ عطیہ دیتے تو ان کے قرض کو جاننے والے اسے روک لیتے اور جو ان کے پاس بچ رہتا اس کی زکوٰۃ قبضے میں آنے سے پہلے نکال لی جاتی، پھر لوگوں نے بڑے بڑے قرض لیے اور وہ زکوٰۃ نہیں دیتے تھے جب تک قرض قبضے میں نہ آئے لیکن جب قبضے میں آ جاتا تو زکوٰۃ ادا کر دیتے جو گزری ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7625
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله ثقات»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ فِي مَالٍ قَبَضَهُ بَعْضُ الْولَاةِ ظُلْمًا يَأْمُرُ بِرَدِّهِ إِلَى أَهْلِهِ وَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ لِمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ، ثُمَّ أَعْقَبَ بَعْدَ ذَلِكَ بِكِتَابٍ أَنْ لَا تُؤْخَذَ مِنْهُ إِلَّا زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنَّهُ كَانَ ضِمَارًا. ثُمَّ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَعْنِي الْغَائِبَ الَّذِي لَا يُرْجَى.
حافظ ثناء اللہ
ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس مال کے متعلق لکھا جس پر بعض امراء نے قبضہ کر رکھا تھا کہ اسے اصل مالکوں کی طرف لوٹایا جائے اور جتنے سال گزر چکے ہیں ان سے اس کی زکوۃ وصول کی جائے۔ پھر اس کے بعد ایک اور تحریر بھیجی کہ اس میں سے صرف ایک ہی زکوۃ لی جائے کیونکہ وہ «ضِمَارٌ» ”ضمار“ تھا اور اس سے مراد ایسا مال ہے جس کے ملنے کی امید نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7626
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه مالك»