السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد. باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7626
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ فِي مَالٍ قَبَضَهُ بَعْضُ الْولَاةِ ظُلْمًا يَأْمُرُ بِرَدِّهِ إِلَى أَهْلِهِ وَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ لِمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ، ثُمَّ أَعْقَبَ بَعْدَ ذَلِكَ بِكِتَابٍ أَنْ لَا تُؤْخَذَ مِنْهُ إِلَّا زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنَّهُ كَانَ ضِمَارًا. ثُمَّ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَعْنِي الْغَائِبَ الَّذِي لَا يُرْجَى.حافظ ثناء اللہ
ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس مال کے متعلق لکھا جس پر بعض امراء نے قبضہ کر رکھا تھا کہ اسے اصل مالکوں کی طرف لوٹایا جائے اور جتنے سال گزر چکے ہیں ان سے اس کی زکوۃ وصول کی جائے۔ پھر اس کے بعد ایک اور تحریر بھیجی کہ اس میں سے صرف ایک ہی زکوۃ لی جائے کیونکہ وہ «ضِمَارٌ» ”ضمار“ تھا اور اس سے مراد ایسا مال ہے جس کے ملنے کی امید نہ ہو۔