السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد. باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7624
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " زَكُّوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيكُمْ، وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ فِي ثِقَةٍ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ مَا فِي أَيْدِيكُمْ وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ ظَنُونٍ فَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو مال تمہاری ملک میں ہے، اس کی زکوٰۃ ادا کرو اور جو قرض ہے وہ ایسا ہی مال ہے، جو ملک میں نہیں اور جو مال ناامید قرض کی صورت میں ہے، اس میں تب تک زکوٰۃ نہیں جب تک قبضے میں نہ آئے۔