السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد. باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7625
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٥٣⦘ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، وَكَانَ عَلَى بَيْتِ مَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنَ الدَّيْنِ الزَّكَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِذَا خَرَجَتِ الْأَعْطِيَةُ حَبَسَ لَهُمُ الْعُرَفَاءُ دُيُونَهُمْ وَمَا بَقِيَ فِي أَيْدِيهِمْ أُخْرِجَتْ زَكَاتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضُوا ثُمَّ دَايَنَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ دُيُونًا هَالِكَةً فَلَمْ يَكُونُوا يَقْبِضُونَ مِنَ الدَّيْنِ الصَّدَقَةَ إِلَّا مَا نَضَّ مِنْهُ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَبَضُوا الدَّيْنَ أَخْرَجُوا عَنْهَا لِمَا مَضَى مِنْهَا ".حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیت المال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ قرض سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے اور وہ ایسے کہ جب لوگوں کے وظائف نکلتے تو عرفاء (نگران) ان کے قرض روک لیتے اور جو ان کے پاس بچ رہتا اس کی زکوٰۃ ان کے قبضے میں آنے سے پہلے نکال لی جاتی، پھر اس کے بعد لوگوں نے ڈوبنے والے قرض دیے تو وہ قرض سے زکوٰۃ وصول نہیں کرتے تھے سوائے اس کے جو نقد وصول ہو جاتا، لیکن جب قرض قبضے میں آ جاتا تو گزری ہوئی مدت کی زکوٰۃ ادا کر دیتے۔