السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد. باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7623
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ الظَّنُونُ، قَالَ: " يُزَكِّيهِ لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ". حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَوْلُهُ: الظَّنُونُ: هُوَ الَّذِي لَا يَدْرِي صَاحِبُهُ أَيَقْضِيهِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَمْ لَا، كَأَنَّهُ الَّذِي لَا يَرْجُوهُ.حافظ ثناء اللہ
علی بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کیا جو انہوں نے ایسے شخص کے متعلق بیان کی جو ایسا مقروض ہے جس کو قرض ملنے کی امید ہے تو انہوں نے کہا: اگر وہ سچا ہے تو جب اس کے قبضے میں مال آئے گا، تب اس کی زکاۃ ادا کرے گا۔
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں انسان جانتا نہیں کہ وہ حاصل ہوگا یا نہیں، گویا کہ وہ ناامید ہے۔