کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟ " فَقُلْتُ: لَا أَوَ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شداد بن ہاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، آپ ﷺ نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کڑے دیکھے تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، یا کہا جو اللہ چاہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے آگ کے لیے یہی کافی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7547
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُوَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ وَهُوَ مَعْرُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ربیع بن طارق رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا کہ محمد بن عطاء رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی اور حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے کہ ”چاندی کے چھلے بنوائے۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عطاء مجہول ہے۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عمرو بن عطاء ہیں اور وہ معروف ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7548
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْمَعْنِيُّ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسْكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا: " أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟ " قَالَتْ: لَا قَالَ: " أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ " قَالَ: فَخَطَفَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ. وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی اور اس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کڑے تھے۔ آپ ﷺ نے اس عورت سے کہا: ”کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتی ہے کہ تجھے ان کے بدلے قیامت کے دن آگ کے کڑے پہنائے جائیں؟“ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دونوں کڑے جلدی سے کھینچ کر نبی ﷺ کے سامنے رکھ دیے اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7549
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه النسائي»
وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَنْزٌ هُوَ؟ قَالَ: " مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَتَّابٌ عَنْ ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کا ہار پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ کنز ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مال اس مقدار کو پہنچ جائے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور اس کی زکاۃ دے دی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں ثابت بن عجلان منفرد ہیں، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7550
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»