السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: سياق أخبار وردت في زكاة الحلي. باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7550
وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَنْزٌ هُوَ؟ قَالَ: " مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَتَّابٌ عَنْ ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کا ہار پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ کنز ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ جس چیز کی زکاۃ دے دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے، اس کا شمار کنز میں نہیں ہوتا۔“