حدیث نمبر: 7547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ " فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟ " فَقُلْتُ: لَا أَوَ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ "..
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن شداد بن ہاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، آپ ﷺ نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کڑے دیکھے تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، یا کہا جو اللہ چاہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے آگ کے لیے یہی کافی ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7547
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداؤد»