حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيَهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " ⦗٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِيهِ: " وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ان تک یہ بات پہنچی کہ ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ دے یا رکھ دیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
شعیب بن لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیث رحمہ اللہ نے ہمیں بیان کیا اور اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے بیان کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ پیارے پیغمبر ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو حتیٰ کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائے یا اسے رکھ دیا جائے، اگرچہ وہ (دیکھنے والا) اس کے ساتھ چلنے والا نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْبَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو اس کے پیچھے ہو وہ اتنی دیر نہ بیٹھے جب تک اسے رکھ نہ دیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِ مَرْوَانَ فَجَلَسَا قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ، فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَخَذَ بِيَدِ مَرْوَانَ، فَقَالَ: " قُمْ فَوَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ "، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں تھے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں میت (قبر میں) رکھنے سے پہلے بیٹھ گئے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ، اللہ کی قسم! یہ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔“ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّاءُ، وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ⦗٤١⦘ شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبِعْتُمْ جِنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو اتنی دیر نہ بیٹھو جب تک اسے رکھا نہ جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبِعْتُمْ جِنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ " قَالَ سُهَيْلٌ: وَرَأَيْتُ أَبَا صَالِحٍ لَا يَجْلِسُ حَتَّى تُوضَعَ عَنْ مَنَاكِبِ الرِّجَالِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ دُونَ قَوْلِ سُهَيْلٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ رَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فِيهِ حَتَّى تُوضَعَ بِالْأَرْضِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے نقل کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جنازے کے ساتھ چلو تو نہ بیٹھو جب تک اسے رکھ نہ دیا جائے۔“
سہیل کہتے ہیں: میں نے ابو صالح کو دیکھا، وہ اتنی دیر نہیں بیٹھتے تھے جب تک لوگوں کے کندھوں سے (جنازہ) اتارا نہ جاتا۔ ثوری نے یہ حدیث سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور اس میں کہا: ”جب تک اسے زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔“ ابو معاویہ نے سہیل سے نقل کیا ہے کہ ”جب تک اسے لحد میں نہ رکھا جائے۔“ اور سفیان (ثوری) ابو معاویہ سے زیادہ حافظے والے ہیں۔
سہیل کہتے ہیں: میں نے ابو صالح کو دیکھا، وہ اتنی دیر نہیں بیٹھتے تھے جب تک لوگوں کے کندھوں سے (جنازہ) اتارا نہ جاتا۔ ثوری نے یہ حدیث سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور اس میں کہا: ”جب تک اسے زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔“ ابو معاویہ نے سہیل سے نقل کیا ہے کہ ”جب تک اسے لحد میں نہ رکھا جائے۔“ اور سفیان (ثوری) ابو معاویہ سے زیادہ حافظے والے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، قَالَ ثنا عَبْدُ اللهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اتَّبَعَ أَحَدُكُمْ جِنَازَةً فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ فِي الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازے کے ساتھ چلے تو وہ نہ بیٹھے جب تک اسے زمین پر نہ رکھا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جِنَازَةً فَقُومُوا لَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”موت ایک گھبراہٹ ہے، سو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجایا کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا سُرَيْجٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ لَهَا وَقُمْنَا مَعَهُ وَقَالَ يَهُودِيَّةٌ وَقَالَ فَقُومُوا وَلَمْ يَقُلْ لَهَا. ⦗٤٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہمیں ہشام دستوائی نے ایسی ہی حدیث اسی سند سے بیان کی، مگر انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ اس کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور کہا گیا: ”یہ یہودیہ کا جنازہ ہے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کھڑے ہو جایا کرو“، انہوں نے یہ بات نہ کہی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جنازے کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا، حتیٰ کہ وہ چھپ گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى تَوَارَتْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ایک یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ چھپ گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجِنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَوْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: " أَلَيْسَتْ نَفْسًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے، ان سے کہا گیا کہ وہ اس سرزمین کے باشندوں یعنی ذمیوں میں سے ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تھا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ سے کہا گیا کہ یہ جنازہ یہودی کا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ انسان نہیں؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ: تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ فَنَقُومُ لَهَا، قَالَ: " نَعَمْ قُومُوا لَهَا فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَكِ "، وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ " وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم کھڑے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہو رہے بلکہ تم اس کی عظمت کے لیے کھڑے ہو جو روحوں کو قبض کرتا ہے۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فرشتے کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”لیکن ہم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فرشتے کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”لیکن ہم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٤٣⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: " مَشَيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَمَامَ الْجِنَازَةِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَامُوا حَتَّى وُضِعَتْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْقَائِمَ مِثْلُ الْحَامِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ جنازے کے آگے چلا، یہاں تک کہ ہم قبرستان پہنچے تو وہ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ اسے رکھا گیا، پھر وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان میں سے ایک سے کہا، تو انہوں نے کہا: ”کھڑا رہنے والا اٹھانے والے کی مثل ہے۔“