السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: القيام للجنازة باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ: تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ فَنَقُومُ لَهَا، قَالَ: " نَعَمْ قُومُوا لَهَا فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَكِ "، وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ " وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم کھڑے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہو رہے بلکہ تم اس کی عظمت کے لیے کھڑے ہو جو روحوں کو قبض کرتا ہے۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فرشتے کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”لیکن ہم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔“