حدیث نمبر: 6866
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ شَكُّ قَبِيصَةَ قَالَ: " الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا وَمَيَامِنِهَا، وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِأَبَوَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ قبیصہ نے اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والے ان کے پیچھے، آگے اور دائیں بائیں چلیں گے اور ادھورے بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی مگر اس کے والدین کے لیے عافیت و رحمت کی دعا کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 6867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذُيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ: " السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا "، أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ النَّقْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ چلنا دوڑنے کے بغیر ہوگا۔ اگر وہ نیک ہے تو اسے جلد پہنچایا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو، جنازے کی اتباع کی جاتی ہے، اسے پیچھے نہیں چلایا جاتا، اس کے ساتھ کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس کے آگے چلے۔“
حدیث نمبر: 6868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ زَائِدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي خَلْفَهَا، فَقِيلَ: لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا يَعْلَمَانِ أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ فَذًّا وَلَكِنَّهُمَا سَهْلَانِ يَسْهُلَانِ لِلنَّاسِ " ⦗٣٩⦘ زَائِدَةُ هَذَا هُوَ ابْنُ خِرَاشٍ، وَقِيلَ ابْنُ أَوْسِ بْنِ خِرَاشٍ الْكِنْدِيُّ يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى هَذَا الْحَدِيثَ، وَالْآثَارُ فِي الْمَشْيِ أَمَامَهَا أَصَحُّ وَأَكْثَرُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ پیچھے چلا کرتے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: وہ دونوں (صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما) جنازے کے آگے چلتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے جیسے باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے افضل ہے، لیکن وہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔