کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جن کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے شہدائے احد کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْغِفَارِيَّ، يَقُولُ: " كَانَ قَتْلَى أُحُدٍ يُؤْتَى بِتِسْعَةٍ وَعَاشِرُهُمْ حَمْزَةُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُحْمَلُونَ، ثُمَّ يُؤْتَى بِتِسْعَةٍ فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حصین بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ احد کے مقتولین میں سے نو لائے گئے اور دسویں ان میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کا جنازہ پڑھا، پھر وہ اٹھائے گئے اور مزید نو کو لایا گیا، ان پر جنازہ پڑھا گیا اور حمزہ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر ہی تھے جب نماز جنازہ پڑھی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6803
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابو داؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ عَشَرَةً عَشَرَةً، فِي كُلِّ عَشَرَةٍ مِنْهُمْ حَمْزَةُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلَاةً " هَذَا أَصَحُّ مَا فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٩⦘ قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ عَلَى حَمْزَةَ سَبْعِينَ صَلَاةً بَدَأَ بِحَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو بِالشُّهَدَاءِ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ، وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَحَدِيثُ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حصین، ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مقتولینِ احد میں دس دس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور ہر دس میں دسویں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ستر مرتبہ آپ کا جنازہ پڑھا۔
اس باب میں یہ سب سے صحیح روایت ہے اور یہ مرسل ہے۔
عطاء، شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ پر ستر جنازے پڑھے، آغاز بھی حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے کیا، پھر آپ ﷺ دیگر شہداء کو منگواتے اور جنازے پڑھتے اور حمزہ رضی اللہ عنہ اسی جگہ پر رہے۔
یہ بھی منقطع ہے، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث موصول ہے اور ان کے والد شہدائے احد میں سے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6804
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ماجه»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ لَا تَدْرِي مَا صَنَعَ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ: اذْكُرْ لِأُمِّكَ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَا بَلْ أَنْتَ اذْكُرْ لِعَمَّتِكَ، قَالَ: فَقَالَتْ: مَا فَعَلَ حَمْزَةُ فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا "، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا، وَدَعَا لَهَا، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقَامَ عَلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: " لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَواصِلِ الطَّيْرِ "، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى، فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ فَيُوضَعُ تِسْعَةٌ وَحَمْزَةُ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَيُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ، ثُمَّ يُجَاءُ بِتِسْعَةٍ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعًا حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ " لَا أَحْفَظُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَكَانَا غَيْرَ حَافِظَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہِ احد میں جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا انہیں تلاش کرتی ہوئی آئیں اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا ہے، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ملیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی ماں کو بتا دو، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کیا ہوا؟ تو ان دونوں نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ کچھ جانتے نہیں، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کی عقل کے بارے میں ڈرتا ہوں (کہ کہیں حواس نہ کھو بیٹھے)۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور دعا کی۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھی اور رو دیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور رک گئے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورتوں کی جزع فزع (کا ڈر) نہ ہوتا تو میں اسے اسی حال میں چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اسے درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے اکٹھا کیا جاتا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے مقتولین کے متعلق حکم دیا اور جنازہ پڑھا، تو نو مقتولین کو رکھا جاتا اور دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہوتے، پھر آپ ﷺ ان پر سات تکبیرات کہتے تو ان کو اٹھا لیا جاتا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جاتا، پھر مزید نو کو لایا جاتا، ان پر بھی آپ ﷺ سات تکبیرات کہتے یہاں تک کہ آپ ﷺ سب سے فارغ ہو گئے۔
میں اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی یزید بن ابی زیاد سے روایت ہی سے جانتا ہوں اور یہ دونوں حافظ (پختہ یادداشت والے) نہیں تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6805
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ماجه»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا " هَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھا اور نو تکبیرات پڑھیں۔
یہ (روایت) محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے اور یہ منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6806
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ابي شيبه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي، عَنْ مِقْسَمٍ، وَقَدْ أَدْرَكَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَلَمْ يُؤْتَ بِقَتِيلٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ مَعَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً " وَهَذَا ضَعِيفٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ إِذَا لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ لَمْ يُفْرَحْ بِهِ ⦗٢٠⦘ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر سات تکبیرات کہیں، کسی بھی مقتول کو نہیں لایا گیا مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ہوتے اور آپ ﷺ جنازہ پڑھتے، یہاں تک کہ ان کے بہتر (72) جنازے پڑھے۔
یہ ضعیف ہے اور محمد بن اسحاق بن یسار جب اپنے شیخ کا نام ذکر نہ کریں تو ان کی روایت قابلِ اعتبار نہیں۔
حسن بن عمارہ، حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا، مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6807
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ابي شيبة»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ: " ائْتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ، فَقُلْ لَهُ: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ "، قَالَ مَحْمُودٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: مَا عَلَامَةُ كَذِبِهِ؟ قَالَ: " رَوَى عَنِ الْحَكَمِ أَشْيَاءَ فَلَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ؟ قَالَ: لَا. وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ. وَقَالَ: قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا؟ قَالَ: يُعْتَقُونَ، قَالَ: قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: فَقَالَ: يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ الْبَصْرِيِّينَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ يُعْتَقُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو داؤد کہتے ہیں کہ مجھ سے شعبہ نے کہا: ”جریر بن حازم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہارے لیے حسن بن عمارہ سے روایت کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہ بہت جھوٹا ہے۔“ محمود کہتے ہیں: میں نے ابو داؤد سے کہا: یہ کیسے؟ انہوں نے کہا: میں نے شعبہ سے پوچھا: اس کے جھوٹ کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس نے حکم سے ایسی چیزیں روایت کیں جن کی میں نے کوئی اصل نہیں پائی۔ میں نے حکم سے پوچھا: کیا نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ جبکہ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے مقسم سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور میں نے حکم سے پوچھا: زنا سے پیدا ہونے والی اولاد کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: انہیں آزاد کیا جائے گا۔ میں نے کہا: کس سے (یہ روایت ہے)؟ انہوں نے کہا: یہ اہلِ بصرہ کی حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے۔ جبکہ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے یحییٰ بن جزار سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہیں آزاد کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6808
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الخطيب»