کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شہید اور ان لوگوں کے ابواب کا مجموعہ جن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں غسل دیا جائے گا -- باب: ان مسلمانوں کا بیان جنہیں مشرکین میدانِ جنگ میں شہید کر دیں تو ان مقتولین کو نہ غسل دیا جائے گا، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں ان کے زخموں اور خون سمیت دفن کر دیا جائے گا
حدیث نمبر: 6795
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَيَسْأَلُ أَيُّهُمَا كَانَ أَكْثَرَ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: " أَنَا أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي خَلِيفَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ بِطُولِهِ، وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک جابر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو کو ایک ہی کپڑے میں جمع کرتے اور پوچھتے کہ: ”ان میں سے قرآن کو زیادہ یاد کرنے والا کون ہے؟“ تو جس کی طرف اشارہ کیا جاتا، اسے لحد میں آگے کرتے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”میں قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گا“ اور آپ ﷺ نے حکم دیا: ”انہیں خون سمیت دفن کرو۔“ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور نہ ہی وہ غسل دیے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6795
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 6796
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا جَعْفَرٌ الْفَارَيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: " أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " وَقَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ " ⦗١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، وَخَالَفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَرَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
قتیبہ کہتے ہیں کہ ہمیں لیث نے اسی سند اور متن کے ساتھ حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: پھر آپ ﷺ دریافت فرماتے: ”ان میں سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا کون ہے؟“ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”میں گواہ ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6796
درجۂ حدیث محدثین: صحيح ابو داؤد
تخریج حدیث «صحيح ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6797
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ: " أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں خون میں ہی دفن کیا گیا اور نماز جنازہ بھی نہ پڑھی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6797
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6798
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَا: ثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ "، فَكَفَّنَهُ فِي نَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ فَخَمَّرَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ "، وَكَانَ يَجْمَعُ الثَّلَاثَةَ وَالِاثْنَيْنِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَيَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ فِي اللَّحْدِ، وَكَفَّنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرَهُ " لَيْسَتْ مَحْفُوظَةً، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي إِسْنَادَهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَحَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، غَلِطَ فِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ⦗١٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد ہوا تو آپ ﷺ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ انہیں کاٹا گیا اور ان کا مثلہ کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر (ان کی) پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا نے (انہیں اس حال میں) نہ دیکھا ہوتا تو میں اسے یوں ہی چھوڑ دیتا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے اکٹھا کرتا۔“ پھر انہیں ایک ٹاٹ میں کفن دیا گیا جس سے سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ظاہر ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا، تو پھر ان کا سر ڈھانپ دیا گیا اور تمام شہدا میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں آج کے دن تم پر گواہ ہوں۔“ اور آپ ﷺ ایک ہی قبر میں دو دو، تین تین کو جمع کر رہے تھے اور آپ ﷺ پوچھتے کہ: ”قرآن زیادہ جاننے والا کون ہے؟“ سو اسے لحد میں پہلے اتارا جاتا اور دو تین آدمیوں کو ایک ہی کفن میں جمع کیا گیا۔
علی بن عمر حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بات ایسے ہی ہے کہ آپ ﷺ نے (شہدا میں سے) کسی کا جنازہ نہیں پڑھا۔ ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن ہے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث غیر محفوظ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6798
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6799
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِيَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: " مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ: أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاهُ "، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ مُثِّلَ بِهِ وَاللهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ وَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْقَتْلَى، فَقَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ جَرِيحٌ يُجْرَحُ إِلَّا جَاءَ وَجُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ "، فَقَالَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوا فِي اللَّحْدِ " وَفِي هَذَا زِيَادَاتٌ لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ زِيَادَةٌ لَيْسَتْ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ صَحِيحَتَيْنِ وَإِنْ كَانَتَا مُخْتَلِفَتَيْنِ فَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ رَحِمَهُ اللهُ إِمَامٌ حَافِظٌ فَرِوَايَتُهُ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ احد کو فرمایا: ”کسی نے مقتلِ حمزہ کو دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے انہیں پایا ہے اور میں ان کے مقتل کو جانتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو چل اور ہمیں دکھا۔“ پھر وہ نکلا حتیٰ کہ وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا رکا۔ انہیں دیکھا تو ان کا پیٹ چیرا ہوا تھا اور مثلہ کیا گیا تھا، تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم! اس حالت میں دیکھنے کو آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ پھر آپ ﷺ مقتولین میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں ان سب پر گواہ ہوں۔ انھیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو۔ بیشک کوئی زخمی ایسا نہیں جو قیامت کے دن لایا جائے گا مگر اس کا زخم خون بہا رہا ہوگا، اس کا رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”لحد میں اسے آگے کرو جو زیادہ قرآن جاننے والا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6799
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن ابي شيبه»
حدیث نمبر: 6800
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: " إِنِّي قَدْ شَهِدْتُ عَلَى هَؤُلَاءِ فزَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَكُلُومِهِمْ " قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: وَثَبَّتَنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَعْمَرٌ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی صعیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین پر نظر ڈالی اور فرمایا: ”بیشک میں ان لوگوں کا گواہ ہوں، تم انہیں ان کے خون اور زخموں سمیت لپیٹ دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6800
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد»
حدیث نمبر: 6801
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبْيَوَرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي عَلَيْهِمْ شَهِيدٌ " وَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيَسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدِّمُونَهُ. قَالَ جَابِرٌ فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولین (شہدائے) احد کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو، بیشک میں ان کا گواہ ہوں۔“ اور ایک ہی قبر میں ایک، دو، تین تین آدمیوں کو دفن کیا گیا اور آپ ﷺ پوچھتے کہ ”ان میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا کون ہے؟“ پھر اسے مقدم کیا جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس دن میرے باپ اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6801
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد»
حدیث نمبر: 6802
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٨⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ نہیں کسی کو اللہ کی راہ میں زخم آتا اور اللہ جانتا ہے جسے بھی اس کی راہ میں زخم آیا مگر وہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کا زخم خون بہا رہا ہو گا، اس کا خون خون ہی کے رنگ میں ہو گا مگر اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6802
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»