حدیث نمبر: 6805
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ لَا تَدْرِي مَا صَنَعَ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ: اذْكُرْ لِأُمِّكَ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَا بَلْ أَنْتَ اذْكُرْ لِعَمَّتِكَ، قَالَ: فَقَالَتْ: مَا فَعَلَ حَمْزَةُ فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا "، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا، وَدَعَا لَهَا، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقَامَ عَلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: " لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَواصِلِ الطَّيْرِ "، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى، فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ فَيُوضَعُ تِسْعَةٌ وَحَمْزَةُ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَيُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ، ثُمَّ يُجَاءُ بِتِسْعَةٍ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعًا حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ " لَا أَحْفَظُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَكَانَا غَيْرَ حَافِظَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہِ احد میں جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا انہیں تلاش کرتی ہوئی آئیں اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا ہے، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ملیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی ماں کو بتا دو، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کیا ہوا؟ تو ان دونوں نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ کچھ جانتے نہیں، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کی عقل کے بارے میں ڈرتا ہوں (کہ کہیں حواس نہ کھو بیٹھے)۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور دعا کی۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھی اور رو دیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور رک گئے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورتوں کی جزع فزع (کا ڈر) نہ ہوتا تو میں اسے اسی حال میں چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اسے درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے اکٹھا کیا جاتا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے مقتولین کے متعلق حکم دیا اور جنازہ پڑھا، تو نو مقتولین کو رکھا جاتا اور دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہوتے، پھر آپ ﷺ ان پر سات تکبیرات کہتے تو ان کو اٹھا لیا جاتا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جاتا، پھر مزید نو کو لایا جاتا، ان پر بھی آپ ﷺ سات تکبیرات کہتے یہاں تک کہ آپ ﷺ سب سے فارغ ہو گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6805
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ماجه»