السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على شهداء أحد باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جن کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے شہدائے احد کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ عَشَرَةً عَشَرَةً، فِي كُلِّ عَشَرَةٍ مِنْهُمْ حَمْزَةُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلَاةً " هَذَا أَصَحُّ مَا فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٩⦘ قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ عَلَى حَمْزَةَ سَبْعِينَ صَلَاةً بَدَأَ بِحَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو بِالشُّهَدَاءِ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ، وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَحَدِيثُ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ.حضرت حصین، ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مقتولینِ احد میں دس دس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور ہر دس میں دسویں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ستر مرتبہ آپ کا جنازہ پڑھا۔
اس باب میں یہ سب سے صحیح روایت ہے اور یہ مرسل ہے۔
عطاء، شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ پر ستر جنازے پڑھے، آغاز بھی حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے کیا، پھر آپ ﷺ دیگر شہداء کو منگواتے اور جنازے پڑھتے اور حمزہ رضی اللہ عنہ اسی جگہ پر رہے۔
یہ بھی منقطع ہے، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث موصول ہے اور ان کے والد شہدائے احد میں سے تھے۔