السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على شهداء أحد باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جن کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے شہدائے احد کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 6807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي، عَنْ مِقْسَمٍ، وَقَدْ أَدْرَكَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَلَمْ يُؤْتَ بِقَتِيلٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ مَعَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً " وَهَذَا ضَعِيفٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ إِذَا لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ لَمْ يُفْرَحْ بِهِ ⦗٢٠⦘ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر سات تکبیرات کہیں، کسی بھی مقتول کو نہیں لایا گیا مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ہوتے اور آپ ﷺ جنازہ پڑھتے، یہاں تک کہ ان کے بہتر (72) جنازے پڑھے۔
حسن بن عمارہ، حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا، مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔