کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان حضرات کی روایت کا ذکر جنہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 6809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحَدٍ صَلَاتَهَ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، إنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ الْآنَ إِلَى حَوْضِي وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن آپ ﷺ نکلے اور شہدائے احد پر نماز پڑھی جیسے نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے، پھر آپ ﷺ منبر کی طرف پلٹے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم! اب میں حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور بے شک میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیا گیا ہوں (یا آپ ﷺ نے زمین کی چابیاں فرمایا) اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6809
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا " قَالَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عُقْبَةُ: " فَكَانَ آخِرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد مقتولینِ احد کی نماز جنازہ پڑھائی، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو الوداع کرنے والا ہو۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”بیشک میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور تمہارا وعدہ حوض پر ہے اور میں اسے اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر اس سے نہیں ڈرتا کہ تم شرک کرو گے، لیکن میں تو تم پر ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ اور یہ آخری نظر تھی جو میں نے آپ ﷺ پر ڈالی۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخری مرتبہ میں نے آپ ﷺ کو منبر پر دیکھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6810
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»