کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالْإِشَارَةُ بِالرَّأْسِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ خلط ملط ہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کرتے جائیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول کی طرح بیان کرتے ہیں: ”جب وہ خلط ملط ہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کریں۔“ لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے کہ ”اگر وہ تعداد میں زیادہ ہوں تو سوار یا اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیں، یعنی نمازِ خوف۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 901»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ: " إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ الذِّكْرُ وَإِشَارَةٌ بِالرَّأْسِ، وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مجاہد کے قول کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ گھل مل جائیں تو وہ ذکر کریں اور سر سے اشارہ کریں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ زیادہ ہوں تو وہ کھڑے اور سوار نماز پڑھ لیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر ما قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٣٦٤⦘ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: " يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ "، ثُمَّ قَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا ". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے: امام آگے بڑھے اور ایک گروہ... پھر انہوں نے حدیث بیان کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اگر خوف زیادہ ہو تو کھڑے اور سوار، قبلہ کی طرف منہ ہو یا نہ ہو، نماز پڑھ لو۔“ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ نبی ﷺ سے ہی نقل فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6023
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر ما قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ أَوْ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ. قَالَ: " آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً "، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ بِهِنَّ مَنْزِلًا، حَتَّى كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ لَهُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُجَادَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي إِيمَاءً، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَ لِذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَايِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْلَحَ الْوَجْهُ "؟ قُلْتُ: قَدْ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " صَدَقْتَ " ثُمَّ قَامَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ: " امْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ "، فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ، فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا مَعَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا عِنْدِي، قَالُوا: أَفَلَا تَرْجِعْ إِلَيْهِ فَتَسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا؟ قَالَ: " آيَةُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ ". قَالَ: فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ بِسَيْفِهِ فَلَمْ يَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ فَدُفِنَا جَمِيعًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے بلایا اور فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ ابن نبیح ہذلی لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ میرے ساتھ غزوہ کرے۔ وہ نخلہ یا عرنہ نامی جگہ پر ہے، جا کر اس کو قتل کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صفت بیان کر دیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے گا تو اس سے تجھے کپکپی آئے گی۔“ چنانچہ میں تلوار کپڑے میں لپیٹ کر چل پڑا اور مختصر سفر کے بعد وہاں پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو وہ وصف پایا جو نبی ﷺ نے میرے لیے بیان کیا تھا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو مجھے ڈر لاحق ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان لڑائی ہو گی، جو مجھے نماز سے مصروف کر دے گی۔ میں اشارے سے نماز پڑھ رہا تھا اور اس کی طرف بھی جا رہا تھا۔ جب میں اس تک پہنچا تو اس نے کہا: کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص ہوں، آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ اس آدمی (یعنی نبی ﷺ) کے لیے جمع ہو رہے ہیں، میں اسی غرض سے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگا: ہاں۔ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، موقع پا کر تلوار سے اس پر حملہ کر دیا اور اس کو قتل کر دیا۔ پھر میں نکلا تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں نبی ﷺ کے پاس واپس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاح پائی چہرے نے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا۔“ پھر نبی ﷺ میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور اپنے گھر داخل کیا اور مجھے ایک لاٹھی عنایت فرمائی اور فرمایا: ”اے عبداللہ بن انیس! اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ میں نے لوگوں کو بتایا کہ یہ لاٹھی مجھے نبی ﷺ نے عطا کی اور فرمایا: ”اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس واپس جاؤ اور اس کے بارے میں سوال کرو۔ میں واپس گیا اور اس لاٹھی کے بارے میں نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے مجھے یہ کیوں عطا کی؟ فرمایا: ”یہ میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی ہو گی؛ کیونکہ اس دن لاٹھی تھامنے والے لوگ بہت کم ہوں گے۔“ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنی تلوار سے ملا لیا۔ وہ ہمیشہ ان کے پاس رہی، جب وہ فوت ہوئے تو ان کے کفن کے ساتھ رکھ دی گئی اور ان کے ساتھ ہی دفن کر دی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6024
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أبو يعليٰ 905»