السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: كيفية صلاة شدة الخوف باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 6021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالْإِشَارَةُ بِالرَّأْسِ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ خلط ملط ہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کرتے جائیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول کی طرح بیان کرتے ہیں: ”جب وہ خلط ملط ہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کریں۔“ لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے کہ ”اگر وہ تعداد میں زیادہ ہوں تو سوار یا اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیں، یعنی نمازِ خوف۔“