کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفَلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرْتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا، سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ " فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلَاحَ وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلُوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبِّرُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ " وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرٍ فَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ مُجَاهِدٍ مِنْ أَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے اور مشرکین کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ”ہم سے غفلت ہو گئی، اگر ہم ان پر حملہ کر دیتے جب وہ حالتِ نماز میں تھے“، تو ظہر و عصر کے درمیان قصر والی آیت نازل ہو گئی۔ جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ ﷺ کے سامنے تھے، آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنیں۔ نبی ﷺ نے رکوع کیا تو ان سب نے رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا، جو آپ ﷺ کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور دوسری صف کھڑی پہرہ دے رہی تھی۔ جب پہلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا جو آپ ﷺ سے پیچھے تھے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹی دوسری صف کی جگہ اور دوسری صف آگے بڑھی پہلی صف کی جگہ، پھر نبی ﷺ نے رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے جو بھی آپ ﷺ کے قریب تھے، یعنی پہلی صف اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ جب نبی ﷺ اور وہ صف جو آپ ﷺ کے ساتھ ملی ہوئی تھی بیٹھ گئے تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب بیٹھ گئے۔ پھر نبی ﷺ نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم میں یہ نماز پڑھائی۔
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی ﷺ نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ ﷺ نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ ﷺ کے قریب تھی۔
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی ﷺ نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ ﷺ نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ ﷺ کے قریب تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيُّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " شَهِدْتُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الْمُقَدَّمُ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا قَضَى السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدُوا ". قَالَ جَابِرٌ: " كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا اور ہم نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں۔ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبی ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا۔ ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی ﷺ سجدہ میں چلے گئے اور وہ صف جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی، دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب نبی ﷺ اور پہلی صف نے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے اپنے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہوئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور پہلی صف پیچھے آگئی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی ﷺ سجدے میں چلے گئے اور پہلی صف بھی سجدہ میں چلی گئی جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی۔ جب آپ ﷺ نے سجدہ پورا کیا اور پہلی صف نے بھی تو پھر دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ انہوں نے سجدے پورے کیے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا ". قَالَ جَابِرٌ: " كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَذَا بِأُمَرَائِهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو ہم سب نے بھی سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے شاہی محافظ اپنے امراء کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جَبْرَئِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالُوا: إِنَّهُ سَيَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، يَعْنِي: الْعَصْرَ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَفَّنَا صَفَّينِ، وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلِ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ: " كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ ". ⦗٣٦٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جہینہ سے غزوہ کیا اور لڑائی انتہائی سخت تھی۔ جب ہم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین کہنے لگے: اگر ہم یک بارگی ان پر حملہ کریں اور ان کو کاٹ ڈالیں، تو اس کی خبر جبرائیل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو دی۔ نبی ﷺ نے اس بات کا تذکرہ ہمارے ساتھ کیا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ عنقریب ایک نماز آئے گی جو ان کو ان کی اولادوں سے بھی زیادہ محبوب ہے“۔ جب نماز کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں بنائیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی، آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا اور پہلی صف پیچھے آ گئی اور دوسری صف آگے بڑھی۔ وہ پہلی کی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، پھر دوسری صف نے سجدہ کیا۔ پھر وہ سارے بیٹھے رہے تو نبی ﷺ نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء نماز ادا کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " قَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، فَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی، آپ ﷺ نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر وہ پیچھے ہٹے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کا پہرہ دیا، پھر دوسرے گروہ نے نبی ﷺ کے ساتھ رکوع و سجود کیے، سارے لوگ نماز میں تھے، وہ تکبیر کہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کا پہرہ دے رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهَذَا مَا رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ فِي هَذَا الْبَابِ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُبَيَّنًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقَطِيعِيُّ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْ بَاهِلِيُّ، قَالُوا ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّينِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، الصَّفَّانِ كِلَاهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ وَقَامَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا، فَسَجَدُوا سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا، فَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ الَّذِي يَلِيهِ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا قَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو نماز خوف کا حکم دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم سب نے یعنی دونوں صفوں نے اکٹھے رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ جب آپ ﷺ اپنے سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہو گئے تو پھر پچھلی صف والوں نے سجدے کیے۔ پھر وہ کھڑے ہو گئے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آگئی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسری صف والے کھڑے رہے، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھے رہے، پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا۔ پھر نبی ﷺ نے سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا ⦗٣٦٨⦘ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ، أَظُنُّهُ قَالَ: عَقِبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف ایسے ہی تھی، جیسے آج کل تمہارے محافظوں کی نماز ہے، اپنے اماموں کے پیچھے۔ ایک گروہ نبی ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہ سب نبی ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گروہ جو کھڑا تھا خود سجدے کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ قیام فرماتے تو وہ سارے آپ ﷺ کے ساتھ قیام کرتے، پھر آپ ﷺ رکوع فرماتے تو وہ بھی سارے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو آپ ﷺ کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی مرتبہ کھڑے رہے اور وہ لوگ کھڑے رہے جنہوں نے پہلی مرتبہ آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور وہ لوگ جنہوں نے آخری نماز میں آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا، انہوں نے سجدہ کیا جو کھڑے رہے۔ پھر وہ بیٹھے رہے تو نبی ﷺ نے سلام میں دونوں گروہوں کو جمع فرمایا۔