السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: كيفية صلاة شدة الخوف باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 6022
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ: " إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ الذِّكْرُ وَإِشَارَةٌ بِالرَّأْسِ، وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مجاہد کے قول کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ گھل مل جائیں تو وہ ذکر کریں اور سر سے اشارہ کریں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ زیادہ ہوں تو وہ کھڑے اور سوار نماز پڑھ لیں۔“