السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: كيفية صلاة شدة الخوف باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي، وَهُوَ بِنَخْلَةٍ أَوْ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ. قَالَ: " آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً "، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ بِهِنَّ مَنْزِلًا، حَتَّى كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ لَهُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُجَادَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي إِيمَاءً، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَ لِذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَايِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْلَحَ الْوَجْهُ "؟ قُلْتُ: قَدْ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " صَدَقْتَ " ثُمَّ قَامَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ: " امْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ "، فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ، فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا مَعَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا عِنْدِي، قَالُوا: أَفَلَا تَرْجِعْ إِلَيْهِ فَتَسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا؟ قَالَ: " آيَةُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ ". قَالَ: فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ بِسَيْفِهِ فَلَمْ يَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ فَدُفِنَا جَمِيعًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ.سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے بلایا اور فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ ابن نبیح ہذلی لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ میرے ساتھ غزوہ کرے۔ وہ نخلہ یا عرنہ نامی جگہ پر ہے، جا کر اس کو قتل کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صفت بیان کر دیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے گا تو اس سے تجھے کپکپی آئے گی۔“ چنانچہ میں تلوار کپڑے میں لپیٹ کر چل پڑا اور مختصر سفر کے بعد وہاں پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو وہ وصف پایا جو نبی ﷺ نے میرے لیے بیان کیا تھا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو مجھے ڈر لاحق ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان لڑائی ہو گی، جو مجھے نماز سے مصروف کر دے گی۔ میں اشارے سے نماز پڑھ رہا تھا اور اس کی طرف بھی جا رہا تھا۔ جب میں اس تک پہنچا تو اس نے کہا: کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص ہوں، آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ اس آدمی (یعنی نبی ﷺ) کے لیے جمع ہو رہے ہیں، میں اسی غرض سے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگا: ہاں۔ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، موقع پا کر تلوار سے اس پر حملہ کر دیا اور اس کو قتل کر دیا۔ پھر میں نکلا تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں نبی ﷺ کے پاس واپس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاح پائی چہرے نے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا۔“ پھر نبی ﷺ میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور اپنے گھر داخل کیا اور مجھے ایک لاٹھی عنایت فرمائی اور فرمایا: ”اے عبداللہ بن انیس! اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ میں نے لوگوں کو بتایا کہ یہ لاٹھی مجھے نبی ﷺ نے عطا کی اور فرمایا: ”اس کو اپنے پاس رکھنا۔“ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس واپس جاؤ اور اس کے بارے میں سوال کرو۔ میں واپس گیا اور اس لاٹھی کے بارے میں نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے مجھے یہ کیوں عطا کی؟ فرمایا: ”یہ میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی ہو گی؛ کیونکہ اس دن لاٹھی تھامنے والے لوگ بہت کم ہوں گے۔“ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنی تلوار سے ملا لیا۔ وہ ہمیشہ ان کے پاس رہی، جب وہ فوت ہوئے تو ان کے کفن کے ساتھ رکھ دی گئی اور ان کے ساتھ ہی دفن کر دی گئی۔