السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: كيفية صلاة شدة الخوف باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 6023
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٣٦٤⦘ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: " يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ "، ثُمَّ قَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا ". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے: امام آگے بڑھے اور ایک گروہ... پھر انہوں نے حدیث بیان کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اگر خوف زیادہ ہو تو کھڑے اور سوار، قبلہ کی طرف منہ ہو یا نہ ہو، نماز پڑھ لو۔“ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ نبی ﷺ سے ہی نقل فرماتے ہیں۔