أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيُّ، عَنْ مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ قَالَ: " شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا إِذًا ". قَالَ: كُنْتُ أَرَاهَا نُسِخَتْ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے قراءت کرتے ہوئے درمیان سے کچھ چھوڑ دیا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو نے مجھے یاد کیوں نہ کروا دیا۔“ وہ کہنے لگے: میں تو اس کو منسوخ سمجھتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ أَظُنُّهُ ابْنَ الْعَلَاءِ بْنَ زَبْرٍ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً يَقْرَأُ فِيهَا، فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ: " أَصَلَّيْتَ مَعَنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَ عَلَيَّ؟ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، وَرَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، فِي قِصَّةِ أُبَيٍّ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کسی نماز میں قراءت کی تو قراءت آپ ﷺ پر ملتبس ہو گئی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ عرض کیا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو مجھے بتا دیتا؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ بِبَغْدَادَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " كُنَّا نَفْتَحُ عَلَى الْأَئِمَّةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید رحمہ اللہ، انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ہم ائمہ کو لقمہ دیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا جَارِيَةُ بْنُ هَرِمٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں ایک دوسرے کو لقمہ دے دیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كُنْتُ قَاعِدًا بِمَكَّةَ فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَ الْمَقَامِ طَيِّبُ الرِّيحِ يُصَلِّي، وَإِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ خَلْفَهُ يُلَقِّنُهُ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک عمدہ خوشبو والا آدمی مقامِ ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہا تھا اور اس کے پیچھے ایک شخص بیٹھ کر اس کو لقمے دے رہا تھا، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّاجِرُ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَسْقَنْدِيُّ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ ⦗٣٠١⦘ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ: " كُنْتُ أُلَقِّنُ ابْنَ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَقُولُ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز میں لقمے دیا کرتا تھا وہ مجھے کچھ بھی نہ کہتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يَقُولُ: " كَانَ أَنَسٌ إِذَا قَامَ يُصَلِّي قَامَ خَلْفَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مُصْحَفٌ، فَإِذَا تَعَايَا فِي شَيْءٍ فَتَحَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عیسی بن طہمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوئے تو ان کے پیچھے ایک غلام قرآن لے کر کھڑا ہوتا، جب وہ کوئی چیز بھول جاتے تو وہ غلام ان کو بتا دیتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِّ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَفْتَحُ عَلَى مَرْوَانَ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مروان کو نماز میں لقمہ دے دیا کرتے تھے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ وَلَا أَنْتَ سَاجِدٌ، وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصْبَاءِ، وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ، وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ، وَلَا تَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ، وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ "..
حافظ ثناء اللہ
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور تیرے لیے وہ ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں، تو رکوع میں قرآن نہ پڑھ اور نہ ہی سجدہ میں، اور بالوں کی لٹ بنائے ہوئے نماز نہ پڑھ، کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے، اور دو سجدوں کے درمیان ایقاع نہ کر، اور کنکریوں سے نہ کھیل، اور اپنی کلائیوں کو زمین پر نہ بچھا، اور امام کو لقمہ نہ دو، اور سونے کی انگوٹھی نہ پہن، اور قسی کے کپڑے نہ پہنو، اور ریشمی گدھی پر سواری نہ کرو یعنی نہ بیٹھو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ إِلَّا أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، لَيْسَ هَذَا مِنْهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْحَارِثُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ الْفَتْحِ عَلَى الْإِمَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو امام کو لقمہ دینے پر دلیل ہے۔
ابو داود فرماتے ہیں: ابو اسحاق نے حارث سے صرف چار احادیث سنی ہیں، یہ ان میں سے نہیں ہے۔ اور حارث قابلِ حجت نہیں ہے۔
ابو داود فرماتے ہیں: ابو اسحاق نے حارث سے صرف چار احادیث سنی ہیں، یہ ان میں سے نہیں ہے۔ اور حارث قابلِ حجت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَحْسَبُهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: هَكَذَا حَفِظْتُهُ أَنَا عَنْهُ، ثُمَّ بَلَغَنِي بَعْدُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَشُكُّ فِيهِ: " إِذَا اسْتَطْعَمَكُمُ الْإِمَامُ فَأَطْعِمُوهُ ". وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ قَوْلِهِ نَحْوَ الْأَوَّلِ، وَزَادَ: قُلْنَا: مَا اسْتِطْعَامُهُ؟ قَالَ: " إِذَا تَعَايَا فَسَكَتَ فَافْتَحُوا عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں نے ان سے یاد کیا۔ پھر اس کے بعد مجھے خبر ملی جس میں شک نہیں کہ ”جب تمہارا امام تم سے کھانا طلب کرے تو تم اس کو کھلاؤ۔“
(ب) ابو عبد الرحمن رحمہ اللہ پہلے قول کی طرح بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اضافہ ہے۔ اس کا کھانا طلب کرنا کیا ہے؟ فرمایا: ”جب وہ تھک کر خاموش ہو جائے تو تم اس کو لقمہ دو۔“
(ب) ابو عبد الرحمن رحمہ اللہ پہلے قول کی طرح بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اضافہ ہے۔ اس کا کھانا طلب کرنا کیا ہے؟ فرمایا: ”جب وہ تھک کر خاموش ہو جائے تو تم اس کو لقمہ دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا ابْنُ جَمِيلٍ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَفْتَحَ عَلَى الْإِمَامِ إِذَا اسْتَطْعَمَكَ " قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا اسْتِطْعَامُ الْإِمَامِ؟ قَالَ: إِذَا سَكَتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبد الرحمن رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ”جب امام تم سے لقمے کا مطالبہ کرے تو اس کو لقمہ دے دیا کرو۔“ میں نے کہا: ابو عبد الرحمن! امام کا کھانا طلب کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب وہ خاموش ہو جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا اسْتَطْعَمَكُمُ الْإِمَامُ فَأَطْعِمُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن سلمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب تمہارا امام تم سے کھانا طلب کرے تو ان کو کھلایا کرو“، یعنی نماز میں بھول جائیں تو لقمہ دے دیا کرو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ يَعْنِي الْأَبَّارَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَرَاهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا اسْتَطْعَمَكُمُ الْإِمَامُ فَأَطْعِمُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبدالرحمن سلمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: جب تمہارا امام تم سے کھانا طلب کرے تو تم ان کو کھانا کھلا دیا کرو، یعنی نماز میں بھول جائیں تم لقمہ دے دیا کرو۔