کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: امام کا منبر پر آیتِ سجدہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ،: " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ السَّجْدَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَنَزَلَ فَسَجَدَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَتَهَيَّئُوا لِلسُّجُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عَلَى رِسْلِكُمْ، إِنَّ اللهَ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ ". فَقَرَأَهَا وَلَمْ يَسْجُدْ وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سجدہ والی آیت تلاوت کی تو منبر سے اترے اور سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر دوسرے جمعہ سجدہ والی آیت منبر پر پڑھی تو لوگ سجدہ کے لیے تیار ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی جگہوں پر رہو، اللہ نے ہمارے اوپر فرض نہیں کیا، ہاں اگر ہم چاہیں۔ انہوں نے آیت تلاوت کی، خود بھی سجدہ نہیں کیا اور دوسروں کو بھی سجدہ سے منع کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5796
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ مالك 484»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ: " أَنَّ عَمَّارًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ ".
حافظ ثناء اللہ
زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سجدہ والی آیت ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] تلاوت کی، پھر منبر سے اترے اور سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5797
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن أبي شيبه 4251»